REGISTRAR JOINT STOCK COMPANIES

ADVOCATING FOR ANTI CORRUPTION REFORMS

AGAINST THE CANCELLATION OF 9000+ SOCIETIES REGISTERED UNDER ACT 1860

رجسٹرار جوائنٹ اسٹاک کمپنیز نے ایکٹ 1860میں سرگرم نو ہزار سے زائد سوسائٹیز اور دوسری ہزاروں فلاحی تنظیموں کوکینسل کردیا ہے۔اسی اقدام کے خلافاینٹی کرپشن اینٹی کرائم فورم پاکستان اینٹی کرپشن اصلاحات میں کام کر رہا ہے۔چونکہ رجسٹرارکے اس اقدام سے ملک میں فلاحی کام کے دروازے بند ہوگئے اور لاکھوں لوگ بے یارومددگار، اپنے بنیادی حق سے محروم ہو گئے۔

قومی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی

رجسٹرار جوائنٹ اسٹاک کمپنیز کا ایکٹ 1860میں سرگرم ہزاروں تنظیموں کو کینسل کرناانہیں فلاحی کام سے روکنے کے مترادف ہے جو کہ آئین پاکستان میں موجود بنیاد حقوق اور انٹرنیشنل چارٹر کہ فلاحی کاموں کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔لیکن افسوس کوئی مجاز ادارہ اس پر ایکشن لینے پر تیار نہیں چونکہ شاید فلاحی کام انکی ضرورت نہیں بلکہ غریب،لاچار اور کمزوروں کی ضرورت ہے۔

قانون میں تجاوز

۔1860 اپنے ایکٹ میں رجسٹرڈ کسی بھی سوسائٹی کو کینسل کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اور نہ ہی رجسٹرار کے پاس نیا قانوسن ایجاد کرنے کا کوئی اختیار موجود ہے لہذا رجسٹرار کا یہ اقدام قانون سے ہٹ کر،اپنے عہدے اورقلم کاغلط استعمال کرنا ہے جو کہ ایک غیرقانونی عمل اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا ہے۔لہذا رجسٹرار کے اس اقدام کے خلاف اصلاحات ناگزیرہیں۔

رشوت کا راستہ استوار

پولیس اور دیگر لاء انفارسمنٹ ادارے ایکٹ 1860 کی کینسلیشن کے بعد فلاحی تنظیموں پر سخت نظر رکھے ہوئے ہیں،تنظیموں پر مقدمات درج کئے جا رہے ہیں اورخوف و حراس پھیلایا جارہا ہے جبکہ تنظیموں کی رجسٹریشن بحال کرانے میں ہزار رکاوٹیں،مسائل اور مشکلات کھڑی کر دی گئی ہیں کہ وکلاء نے بھی ان کاموں سے کنارہ اختیار کر لیا ہے۔اسی لئے تنظیمیں رشوت کے سہارے اپنی رینیول اور رجسٹریشن کروانے پر مجبور ہیں۔

ملکی سلامتی کوشدیدخطرہ

ملک میں سیلاب اور مہنگائی کی خوفناک صورتحال کے باوجود فلاحی تنظیموں پرشدید سختی نے انہیں کاموں سے روکے رکھا ہوا ہے۔جس کی وجہ سے انفرادی طور پر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے ذاتی موبائل اور بینک اکاؤنٹس میں عطیات جمع کرانے پر عوام کو قائل کر رہے ہیں۔جو کہ ایک طرف خوش آئیند عمل ہے لیکن دوسری طرف یہ ملکی سالمیت کو بڑا خطرہ ہے چونکہ اس سے عوام کا پیسہ فراڈ،ملک دشمنی،منی لانڈرنگ،دہشت گردی وغیرہ میں با آسانی استعمال ہو سکتا ہے۔

فلاحی اثاثے، امانتیں اور ذمہ داریاں

ایکٹ 1860 کی کینسلیشن نے سوسائٹی سربراہان کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔کسی بھی فلاحی تنظیم اپنے معاملات کو آگے بڑھانے کیلئے معاہدات،لین دین،ادھار،قرضے لیتی ہے۔ان معاہدات کو پورا کرنا،عوام کی عطیات،امانتوں کا صحیح استعمال کرنا ادارے پر بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس سب کے ساتھ ادارے کی کئی پراپرٹیاں،گاڑیاں اوردیگر اثاثے موجود ہوتے ہیں۔رجسٹرار کے اس اقدام سے معاہدات، اثاثوں،بینکوں میں موجود رقم (عوام کی امانت)،قرضوں،ادھار جیسے بھاری بوجھ کو کیسے اتارا جائے جبکہ ان سوسائٹیز کو کسی بھی اقدام سے روک دیا گیاہے۔ سوسائٹی سربراہان بغیرکوئی جرم کئے ہزاروں بوجھوں اورذمہ داریوں تلے دب چکے ہیں۔ان کو اس مشکل سے نکالنے کیلئے اینٹی کرپشن اینٹیٰ کرائم فورم پاکستان اینٹی کرپشن اصلاحات میں کام کررہا ہے۔

ایک گزارش!

آئیے ادارے کی اس اینٹی کرپشن اصلاحات میں تعاون کر کے فلاحی تنظیموں کی بحالی میں مدد کریں تاکہ ہزاروں سوسائٹی سربراہان کو اس مشکل سے نجات دلاسکیں اور فلاحی کاموں کے رکنے سے متاثر ہونے والے لاکھوں غریب،لاچار،مجبوراور بے بس افراد کو ان کے حقوق واپس لوٹائیں اور ملک میں پھر سے خوشحالی لائیں۔

Find Us On

Address: Gulshan e Ravi
Lahore, Pakistan
0304-0462864
staff@acacf.pk


ACACF

The Worlds First anti corruption organization
that rescues the victims of corruption
and crime through charity.

Copyright © 2022 – Anit Corruption Anti Crime Forum.

Contact Us

Near High Court Lahore , Pakistan

+92 3040462864