PUBLICATIONS



رشوت خور بے غیرت
ہر مجرم کا ساتھی رشوت خور ہر دہشت گردی کے پیچھے رشوت خور ہر ملک دشمن کے پیچھے رشوت خور
ملک کی بدحالی کی پیچھے رشوت خور سچ و انصاف کا دشمن رشوت خور ہر چور ڈاکو کے پیچھے رشوت خور
ہر قتل اور زنا کے پیچھے رشوت خور ہر فساد کے پیچھے رشوت خور
رشوت اورکرائم کی سب سے بڑی وجہ!
افسران سے بات کرتے ہوئے ہم ڈرتے ہیں اپنے شعور کی کمی کی عجہ سے اداروں میں بیٹھے افسران سے کام لینے کے دو ہی طریقے ہیں سفارش یا رشوت ان چور راستوں کا انتخاب گھر بٹھے ہی کر لیا جاتا ہے۔کیونکہ عوام کو واقفیت نہیں اپنے بنیادی حقوق سے، سرکاری اور سیاسی نظام سے بنیادی قونین سے
تو پھر مایوسی کیوں! طنز و تنقید کیوں!
کیا آپ چاہتے ہیں؟
۱۔ کہ کرپشن اور کرائم سے آپ محفوظ ہیں؟ ۲۔کرپشن اور کرائم کے شکار لوگوں کی مدد کی جائے ۳۔ کرپشن ار کرائم کرنے والوں کو انکا بھولا ہوا سبق یاد دلایا جائے؟ ۴۔ملک کو کھوکھلا کر دینے والی دیمک رشوت اور کرائم سے وطن عزیز کو پاک کیا جائے؟
تو ہمیں خود وہ سب سیکھنا ہوگا
ہمارے بنیادی حقوق کیا ہے افسران سے بات کرنے کا طریقہ کار کیا ہے بنیادی قانونی معلومات یہ محتاجی ختم کرنے کے لئے
آیئے ممبر بنئیے اپنے علاقے میں رشوت اور کرائم کے خلاف جہاد کا آغاز کریں۔
ممبرشپ کارڈ نوٹیفیکیشن ورکشاپ اینڈ ٹریننگ لینے کے لیئے رابطہ کریں۔


لوگ سوچتے ہیں ملک کے سیاستدان کرپٹ ہیں۔وزرا کرپٹ ہیں۔ پولیس کرپٹ ہے۔ایف آئی اے کرپٹ لیکن ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیے اور ان کا ماضی دیکھے آپ کو پتا چلے گا کہ ان ممالک کا حال اس سے زیادہ برا تھا۔ لیکن ان ممالک میں اصلاحات کسی سیاست دان
یا سرکاری افسرنے نہیں کیں بلکہ ان اداروں کی اصلاح سول سوسائٹی نے کی۔
کیونکہ سول سوسائٹی سیا سی، مزہبی، علاقائی، قومی، لاسانی تفریق سے بالا تر ہو کر انسانیت اور فلاح کو مد نظر رکھتی ہے اس سلسلے میں
ایسا سماجی ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔جس میں انتہائی قابل تجربہ کار دیانتدار ماہرین عوامی رہنمائی کے لئے آن لائن سہولت فراہم کریں
اس سلسلہ میں الحمدللہ ہم نے فورم قائم کر دیا ہے۔پورے پاکستان میں چاروں صوبوں میں تنظیم سازی اور ممبر سازی کی جارہی ہے

December 10th, 2003



جرائم کا سیلاب ہر طرف امڈ پڑا ہر طرف افرا تفری بد امنی نے جگہ لے لی شریف
آدمی کا عزت سے جینا مشکل ہو گیا ہے۔وہ سب کچھ جو قابل نفرت تھا قابل فخر بن گیا۔
آب جانتے ہیں ایسا کیوں ہواجس شہر میں پتھروں کو رسی سے باندھ کر کتے کھلے
چھوڑ دیے جائیں تو نتیجہ میں کتوں کا ہہی راج ہوگا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے
کہ جرائم کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی جائے قوم کا شعور کیا جائے مجرموں کا
پیچھا کیا جائے عوام کو تحفظ فراہم کی اجائے اس کام کے لئے سماجی تنظیم کی ضرورت ہے
جس ادارے میں خیر کے جزبات رکھنے والے افراد ہر شعبے سے کیے جائیں
پولیس اور عدالت جیسے انتظامی ادارے ہوں یا سول سیکرٹیٹ سیاست دان ہوں
یا جرنلسٹ تاجر ہوں یا آجر سب مل کر بھولا سبق یاد دلائیں

February 21st, 2019


In 2002, the NACS was launched when Gen Pervez Musharraf was the president and Lt-Gen Munir Hafeez was the chairman of NAB. Though the strategy is not time-bound, it has never been reviewed during the last 17 years. Being on the same page with all state institutions, the PTI

December 10th, 2003



بیت المال
خیرات۔قرض حسنہ۔تحائف
خیرات:معزور،بیوہ، بیماری، قیدی، مقروض، ضام؟
قرض حسنہ: تاجر، عارضی ضرورت
تحائف: کم آمدن، سفید پوش، تنگ دست
تینوں صورتوں میں، اول رشتہ دار،دوئم ملازم،سوئم پڑوسی
چہارم واقف کار،پنجم معتبر سفارش
زکوۃ اسلام کا معاشی نظام
لیکن افسوس
پورا رمضان اس موضوع پر
کوئی بات نہیں کرتا نظر آئے گا
کیونکہ
پھر تو زکوۃ اصل مستحق کو پہنچ جائگی
زکوۃ لوگوں کے معاشی مسائل حل کرنے
کے لئے ادا کرنا سنت رسول ﷺ ہے

February 21st, 2019


ایک سماجی تنظیم ہے جو قانونی مدد کے لئے بنائی گئی ہے تاکہ محض تنقید کی بجائے سیاسی اور
غیر سیاسی اداروں کے لئے راہ عمل متعین کی جا سکے ماہرین کی زیر نگرانیایسے پروجیکٹس
تر تیب دئے جائیں جو اجتماعی اور باہمی تعاون کی بنیاد پر قابل عمل ہوں پاکستان میں
رہنے والے افراد کے بنیا د ی حقوق کے تحفظ کے لئے اختیارات اور حقوق پر مبنی
قوانین سے آگاہی اور اس میں تجاویز کرنے والوں کی نشاندہی کے لئے ماہرین
قوانین اور میڈیا کی خدمات کو عوام کی دسترس میں لایا جائے



کسی دفتر میں روزانہ 100کسٹمرز کو انہی مسائل کا شکار دیکھتا ہے۔مہینہ بھر میں تین ہزار کسٹمرز کو خوب سمجھنے اور الجھانے کے سارے تریقے اپنے ساتھیوں سے سیکھتاہے۔سال بھر میں اسی سیٹ پر بیٹھ کر چھتیس ہزار افراد کو ان کے قانونی مسائل اور داؤپیچ کا ماہر ہو جاتا ہے۔
زرا سوچیں جو شخص ایک سال میں چھتیس ہزار فائلیں بھکتا چکا ہے آپ اسکا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔
اینٹی کرپشن اینٹی کرائم فورم کیا چاہتا ہے۔
ان اداروں کی کرپشن روکنے کیلئے عوامی خیراتی اداروں کو قائم کیا جائے جس میں انتہائی قابل تجربہ کار
دیانتدار ماہرین عوامی رہنمائی کیلئے آن لائن سہولت فراہم کریں۔
اس سلسلہ میں الحمدللہ ہم نے فورم قائم کر دیا ہے۔جسکی ممبرشپ جاری ہے۔
سیکریٹیریٹ کے قیام کیلئے رقبہ اور تعمیرات کیلئے تعاون درکار ہے۔


ملک کے ہر تھانے میں ماورا عدالت قتل اور تشدد بد قماشوں کی سرپرستی۔
ملک کے ہر پڑوار خانہ میں لوگوں کی جائداد پر ناجائز قبضے اور زیادتیاں۔
ملک ہر سرکاری محکموں میں کھلم کھلا رشوت کی بنیاد پرحق دار حق سے محروم۔
ملک میں را اور سی آئی اے کے ایجنٹس سیاسی،مذہبی،سماجی رہنماؤں اور تنظیموں کی شکل میں۔
ملک کا ہر بچہ 101338ایک لاکھ ریترہ سو روپے کا مقروض کیسے بناپیسا کیاں گیاواپس کیسے آئے۔
ملک بھر میں لاکھوں سرکاری ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کی مشکلات۔
ملک بھر میں سیلاب سے اربوں روپے کی زراعت،املاک،مالی اور جانی نقصان سالانہ۔
ملک بھر میں سیلاب کے نام پر سرکاری محکموں کی کھربوں روپے کی لوٹ مار سالانہ۔
دراسل یہ بل بیس کروڑ عوام کی ضرورت نہیں بلکہ
آقاؤں کی ضرورت ہے۔



ملک میں اداروں کی کرپشن کے باعث حق دار حق سے محروم
جائدادوں پر قبضہ،عزت اور جان کی کوئی قیمت نہیں۔۔۔۔۔۔۔تاجر سرکاری محکموں کو بھتہ دینے پر مجبور
سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام کی لاشیں۔۔۔۔۔سرکاری اسکولوں میں جہالت کے اندھیرے
محافظوں کو ہاتھوں عزتیں تار تار۔۔۔۔۔۔پولیس کی نگرانی میں بد قماشوں کا راج
گدھے،کتے،مری مرغیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دودھ اور دوایؤں کے بدلے زہر
آپکی زکوٰۃ اور صدقات کا بہترین مصرف
حق داروں،بیواؤں،بے سہاروں،بے بسوں،بے کسوں کا ساتھی
اینٹی کرپشن اینٹی کرائم فورم
مضبوط کرنا آپکی زمہداری

(چیئرمیں گرین ہیون سوسائٹی)


قوم کی ترقی کیلئے کردار سازی پہلا قدم ہے۔جرم سے نفرت زندہ قوم کی علامت ہے۔
ہر جرم جھوٹ کر پردے میں چھپا ہے۔سچ کو بدلنے۔چھپانے،یا یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
عزت دار وہ ہے جس کے پیٹھ پیچھے تعریف کی جائے۔مرنے کے بعد اس کی کمی محسوس کی جائے۔
جس کی بات پر دشمن کو بھی اعتبار ہو۔جسکی کوئی قیمت نا لگا سکے۔مال عہدہ حسب،نصب اسکی عزت
کا سبب نا ہو۔جس کے انصاف کی راہ میں صرف موت حائل ہو۔ظلم دیکھ کر رو پڑے،مفلس
دیکھ کر تڑپ اٹھے۔جو مر کر بھی امر نا ہو۔
آئیے عزت دار بنیں عزت داروں کو تلاش کریں۔اور پیغام کو عام کریں۔



لاقانونیت اور بد عنوانی کے خلاف
عوام کو حقوق اور فرائض کی آگاہی دینا۔اختیارات میں کوتاہی یا تجاوز کرنے والے افراد
کے خلاف مناسب کاروائی عمل میں لانا۔مجاز حکام اور اداروں تک شکایت پہنچانا۔
مجاز اداروں کی بے حسی کے خلاف میڈیا کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروانا۔
جلسہ جلوس،لانگ مارچ،احتجاج ہڑتال کے ذریعہ سے مطالبات منوانا۔
با اثر طبقہ،جرائم پیشہ گروہ،بد عنوان افسران کے خلاف عوامی قوت کو یکجا کرنا۔
مجرموں کو ثبوت اور گواہوں کی بنیاد پر واقعی سزا دلوانا۔
آپ کا حق ہے
بائیس کروڑ عوام مجرموں اور بد عنوان افسران کے ہاتھوں یرغمال ہے۔سرکاری مافیادہشت گرد بن چکا ہے۔پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جس میں سرکاری محکمہ قانون پر عمل کرنے والوں کو سزا دیتا ہے
اور لاقانونیت پھیلانے والوں کی حفاظت کرتا ہے۔ہر علاقے میں سرکاری محکمہ کے

تیس سے چالیس ملازمین کا پندرہ سے بیس ہزار افراد کے خلاف اعلان جنگ ہے
وجہ کیا ہے؟؟
اب تک کوئی ادارہ موجود نا تھا جو عوام کا نمائندہ ہو۔اور مافیا کے خلاف عام آدمی کو تحفظ دے۔
اینٹی کرپشن اینٹی کرائم فورم نے عوامی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے۔پاکستان کے چاروں صوبوں میں ہر ضلع
کی یونین کونسل کی ستح تک تنظیم سازی کی جارہی ہے۔


ایک تاجر نے مکہ میں تجارت کی غرض سے اپنا مال لا کر ایک تاجر کو دیا۔ مقامی تاجر نے تنہا اور پردیسی ہونے کے باعث مال بھی رکھ لیا اور اس کی قیمت بھی غصب کر لی۔پر دیسی تاجر بہت پریشان ہواروتا پیٹتا کچھ مقامی لوگوں کو پاس گیااور اپنی پریشانی کا احوال سنایا۔مکہ کے اہل خیر نے جب تاجر پر ہونے والے ظلم کی کہانی سنی تو اپنے حلقہ کے لوگوں سے حلف لیا کہ ہم مظلوم کا ساتھ دیں گے اور ظالم کے خلاف محتد ہو کر ظلم ختم کریں گے۔نبی ﷺ قبل نبوت اس معاہدے میں شریک تھے۔یہ حلف آپکو اتنا عزیز تھا کہ آپ نے فتح مکہ کے بعد بھی اس واقعہ کو یاد فرمایا کہ اب بھی مجھ سے کوئی ایسا حلف یا معاہدہ کرنا چاہے تو میں اسے پسند کروں گا

December 10th, 2003



سفارش،رشوت عقرباپروری،کلچر،حق تلفی،اختیارات میں تجاوز،مجرمانہ غفلت،استحصال اور VIP
بد عنوانی جیسے کا بڑھتا سیلاب سونامی کی شکل اختیار کر ہا ہے۔قانون نافز کرنے والے اداروں سے قانون کی پاسداری ناپید ہے۔ترقیاتی ادارے ملک کو تنزلی کی طرف دھکیلنے میں مصروف ہیں۔
ہسپتالوں میں مسیحا تلاش کرنے سے نظر نہیں آتے۔تعلیمی اداروں سے اٹھنے والی روشنی معدوم ہے۔
اٹھارہ کروڑ عوام بے یارو مدد گار خوفذدہ ہڈرے سہمے مایوسی کا شکارہیں۔وہ ادارے جو عوام کے ٹیکس پر عوام کی خشحالی اور امن کے رکھوالے تھے۔ملک میں تحزیب کاراور دہشت گرد بن گئے۔اس بد عنوانی اور
جرائم کے انسداد کے لئے ادارے بھی موجود ہیں اور اداروں میں درد دل اور انسان دوست افسران بھی ہیں۔قوانین بھی ہیں اور عدالتیں بھی موجود ہیں
لیکن کمی کیا ہے؟؟
عوام میں بڑھتی مایوسی کے خلاف غیر جانب دارانہ عوامی جدوجہد کیلئے اینٹی کرپشن اینٹی کرائم فورم کو قائم
کر دیا گیا ہے۔تاکہ ملک میں بڑھتی کرپشن اور جرائم کے خلاف سیاستدان ہوں یا سرکاری افسران،وکلاء

ہوں یا صحافی۔سب مل کر اس فورم سے عوامی شعور کو بیدار کریں۔تاکہ عوام کو انکا حق اور ذمہ داران
کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا جاسکے۔
اس عزیم مقصد کیلئے اینٹی کرپشن اینٹی کرائم فورم کا ساتھ دیں۔


باکردار،ایماندار،سادہ طبیعت،امانت دار، رحم دل،ہمدرد،مسیحا،محب وطن،غریب دوست،بے لوث،
ناکارنہ بنگلہ نہ قیمتی لباس نہ قیمتی جوتے نہ نوکر چاکر نہ عہدہ نہ گن مین نہ جاگیر انہ کارخانے دنیا کا امیر ترین غریب شخص
اس کی تعریف میں صفحات کالے کر دئے
ہم نے پورے عزاز کے ساتھ دفن کر دیا
کوئی ہے جو اپنی ذات میں ایدھی زندہ کرے



حفظ قرآن،درس نظامی،تجوید،دورہ حدیث،درس قرآن،ناظرہ قرآن،نماز با جماعت،نماز جمعہ،
نماز تراویح،اشراق،تہجد اذکار،مسنوندعائیں، اعتکاف،اسلامی لباس،مسنون داڑھی۔پردہ
یہ سب بلا شبہ دین ہیں لیکن
مسجد سے باہر ہونے والے ظلم،قتل و غارت،نا انصافی،بے حیائی،لوٹ مار عصمت دری،دہشت گردی
حق تلفی،شراب نوشی،ملاوٹ،اسلام دشمنی،ملک دشمنی
کے خلاف
عملی جدو جہد فریضہ اسلام ہے۔
ورنہ محمد بن قاسم کو ایک عورت کی مدد کیلئے سمندر پار لشکر کشی کی کیا ضرورت تھی نجات کیلئے قران پر اعرآب
کا تحفہ ہجاج بن یوسف کیلئے کافی تھا۔
امر با المعروف نہی عن المنکر
حکم ربی ہے

February 21st, 2019


ملک بھر میں لاکھوں سرکاری عمارتیں اس مقصد کے لئے اربوں کی مالیت سے شہر شہر نگر نگر تعمیر کیئے گئے
ہیں۔اور سالانہ ان اداروں کی دیکھ بھال کا بجٹ کروڑوں روپے مختص کیا جاتا ہے۔ان اداروں کو چلانے
کیلئے باقائدہ سرکاری عملہ مقرر ہے۔جو سالانہ اربوں کی تنخواہیں اور مراعات وصول کر رہے ہیں۔ان
اداروں کو چلانے کیلئے باقائدہ صحت تعلیم اور بیت المال کے ادارے بلکہ وزرتیں موجود ہیں
ضرورت اس بات کی ہے۔
ان اداروں کی کرپشن روکنے کیلئے عوامی خیراتی اداروں کو قائم کیا جائے۔اس سلسلہ میں الحمدللہ ہم نے
فورم قائم کر دیا ہے۔پورے پاکستان میں چاروں صوبوں امیں تنظیم سازی کی جا رہی ہے۔
سیکرٹریٹ کے قیام کیلئے رقبہ اور تعمیرات کیلئے تعاون درکار ہے۔



ہاتھوں کی زنجیر بنا کر۔۔۔۔۔۔۔چراغ سے چراغ جلا کر
اس بھلے کام کے لئے نہ وزارت چاہیے نہ صدارت۔صرف آپکی ہمدردی اور خلوص چاہیے۔
رنگ نسل،قوم مزہب اور مسلک کی تفریق سے بالا تر ہو کر دکھی انسانیت کے سیلاب کے آگے
بند باندھنے کیلئے اینٹی کرپشن اینٹی کرائم فورم آپکی منتظر ہے۔


ACACF

The Worlds First anti corruption organization
that rescues the victims of corruption
and crime through charity.

Copyright © 2022 – Anit Corruption Anti Crime Forum.

Contact Us

Near High Court Lahore , Pakistan

+92 3040462864