ACACF TIMELINE

2000

کرپشن کے خلاف زندگی کی پہلی جنگ

  1. Iدو ہزار میں ہم حکومت کے مقابلے میں سستا ہاؤسنگ پراجیکٹ لانا چاہتے تھے،اس پراجیکٹ کا نقشہ پاس کروانے کیلئے جب ہم محکمے میں گئے تو پتا چلا کہ یہاں دو ڈھائی سال پہلے کے قوانین چل رہے ہیں جو کہ اب قابل عمل ہیں ہی نہیں۔لہذاہمیں بتایا گیا کہ آپ فرضی نقشہ بنائیں رشوت کھلائیں اور بلڈنگ بنا لیں یہ نظام چل رہا تھامحکموں میں۔تو ہم نے محکمے کے ساتھ دو سال لڑائی کی،اور الحمدللہ خود قانون سمجھ کر محکموں کو راستہ دیا اوربل آخر بغیر رشوت کے قانون کے دائرہ میں کام کروایا۔
  2. محکمے کے خلاف یہ میری پہلی لڑائی تھی پھر اس سے میری شہرت بنی لوگوں میں میری پہچان ہو ئی کہ یہ بغیر رشوت قانون کے دائرہ میں کام کرواتا ہے لہذٰا لوگ میرے پاس مختلف قانونی مسائل لانا شروع ہو گئے اور یہاں سے میں لوگوں کے مسائل حل کروانا شروع ہو گیا۔

2007

ایک تنظیم کے طور پر جدوجہد کا آغاز

  1. پھر مجھے پتا چلا کہ کسی بھی محکمے میں قابل عمل قوانین نہیں ہیں اور ہر محکمے میں رشوت چل رہی ہے۔ہر آدمی چوری پر مجبور ہے ۔یہ لڑائی مسلسل لڑتا رہااورجب یہ کام بڑھ گیا تو میرے لئے اکیلے ان کے مسائل حل کرنا مشکل ہو گیا اخراجات کرنا مشکل ہو گیا تو میں نے دو ہزار سات میں ایک این جی او بنانے کا فیصلہ کیا اور قافلہ کے نام سے اسکی بنیاد رکھی تاکہ لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ایک سسٹم ڈویلپ کر دیا جائے لیکن وہ قانونی مسائل کی وجہ سے رجسٹرڈ نا ہو سکا

2009

مرکزی تنظیم گرین ہیون سوسائٹی ہے

  1. میں نے 2009 میں لیگل سپورٹ کی بنیاد پر گرین ہیون سوسائٹی کے نام سے 1860میں این جی او رجسٹرڈ کروائی جو ڈسٹرک لیول پر تھی۔ پھر اس کے تحت میں لوگوں کی مدد کرنے لگا

2014

اینٹی کرپشن اور اینٹی کرائم کے سلسلے کی توسیع

  1. 2014 میں، ہم نے اس سلسلے کو بڑھانے کے لیے اینٹی کرپشن اینٹی کرائم فورم کے نام سے گرین ہیون سوسائٹی کا باقاعدہ ایک فورم بنایا۔ اور کرپشن سے متاثر لوگوں کی مدد کیلئے لاہور میں ہیڈ آفس بنایا،حیدرآباد،کراچی اور مختلف شہروں میں دفتر قائم کیے اور عام آدمی کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے پورے پاکستان میں ممبرشپ جاری کی،مستحق افراد کو مفت قانونی مدد فراہم کی، پاکستان کے مختلف شہروں میں تعارفی پروگرام منعقد کیے، این جی او کی نمائندگی کے لیے ہر شہر میں کوآرڈینیٹر مقرر کیے گئے۔

2019

اینٹی کرپشن کیلئے بین الاقوامی قانون

  1. کراچی میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ورزی کرتے ہوئے دو کڑوڑ عوام کے شہر میں دودھ مافیا مہنگا دودھ بیچ رہاتھا جبکہ ان کو روکنے والے محکمے پولیس ڈیپارٹمنٹ اور دوسرے محکمے خود ان کے محافظ بنے ہوئے تھے۔پھر 2019میں ہم نے دودھ مافیا کے خلاف کمپین چلائی تواس کرپٹ مافیا نے پولیس اورکمشنر صاحبان نے ہمیں روکنے کیلئے ہمارے نوجوانوں پر جھوٹی ایف آئی آر درج کروادی۔ہماری ٹیم نے سرچ کیا کہ انٹرنیشنل لیول پر اس میں کیاکای جا رہا ہے، ہمیں پتا چلا کہ یہ تو باقاعدہ قانون بن گیا ہے کہ سول سوسائٹی اینٹی کرپشن میں کام کرے اور حکومتیں اس کو پروموٹ کریں تو ہمارے لئے یہ بڑی امید کی کرن تھی،ہم نے کورٹ میں یہ سارے ثبوت پیش کئے۔الحمدللہ پھر ہمارے نوجوان باعزت بری ہوگئے

2020

اینٹی کرپشن اینٹی کرائم فورم کی رجسٹریشن

  1. اگرچہ ہمیں قانون میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی لیکن پھر بھی ہمیں یہ پورے پاکستان میں پریشانی کا سامناکرنا پڑا کہ ہم جہاں بھی کام کرتے ہمیں محکمے یہ کہہ کر بلیک میل کرتے کہ آپ کی این جی او اینٹی کرپشن کے نام سے رجسٹرڈ نہیں ہے،پھر ہم نے 2020میں باقاعدہ1908ایکٹ کے تحت اینٹی کرپشن کے نام سے رجسٹریشن اپلائے کر دی اور بہت کوششوں کے بعد الحمدللہ 2022-julyمیں ہماری اینٹی کرپشن اینٹی کرائم فورم کے نام سے رجسٹریشن ہو گئی

اینٹی کرپشن اینٹی کرائم فورم بین الاقوامی قانون کے تحت کام کر رہا ہے

  1. اب انٹرنیشنل قانون کے تحت جوپاورز سول سائٹی کو دی گئی ہے،ہم اس میں کام کر سکتے ہیں2000 سے ہمارا سفرشروع ہوا اور اب ہم یہاں پہنچ چکے ہیں۔ یہ جنگ ۲۲ سال سے اسد بیگ لڑ رہا ہے اور آج پاکستان میں یہ پہلی اینٹی کرپشن این جی او بن چکی ہے اب صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھیں اور اس کام کو فعال بنانے اور کرپشن کے خلاف سول سائٹی کے کردار کو ادا کرنے کیلئے ہمارا بازو بنیں۔ ہم یہ سفر یہاں تک لے کر آچکے ہیں۔ پاکستانیوں کیلئے ایک دروازہ کھل گیا ہے۔ آئیں اس دروازے میں داخل ہو ں اور اس ملک کو اور اس قوم کو کچھ دیں۔

ACACF

The Worlds First anti corruption organization
that rescues the victims of corruption
and crime through charity.

Copyright © 2022 – Anit Corruption Anti Crime Forum.

Contact Us

Near High Court Lahore , Pakistan

+92 3040462864